حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: نَادَى رَسُولَ اللَّهِ (ﷺ) رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الصُّفَّةِ حِينَ انْصَرَفَ مِنَ الصَّلَاةِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أَرْضَنَا أَرْضٌ مَضَبَّةٌ، فَمَا تَرَى فِي الضِّبَاب؟، قَالَ: بَلَغَنِي أَنَّهُ أُمَّةً مُسِخَتْفَلَمْ يَأْمُرْ بِهِ، وَلَمْ يَنْهَ عَنْهُ.
ابوسعید خدری (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب نماز پڑھ کر لوٹے تو اہل صفہ میں سے ایک شخص نے آپ کو آواز دی، اور عرض کیا : اللہ کے رسول ! ہمارے ملک میں ضب (گوہ) بہت ہوتی ہے، آپ اس سلسلے میں کیا فرماتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا : مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ یہ کوئی امت ہے جو مسخ کردی گئی ہے پھر آپ ﷺ نے نہ اس کے کھانے کا حکم دیا، اور نہ ہی منع فرمایا۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الصید والذبائح ٧ (١٩٥١) ، (تحفة الأشراف : ٤٣١٥) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/٥، ١٩، ٦٦) (صحیح )