حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: مَرَرْنَا بِمَرِّ الظَّهْرَانِ فَأَنْفَجْنَا أَرْنَبًا، فَسَعَوْا عَلَيْهَا، فَلَغَبُوا فَسَعَيْتُ، حَتَّى أَدْرَكْتُهَا فَأَتَيْتُ بِهَا أَبَا طَلْحَةَ، فَذَبَحَهَا، فَبَعَثَ بِعَجُزِهَا وَوَرِكِهَا إِلَى النَّبِيِّ (ﷺ) فَقَبِلَهَا.
انس بن مالک (رض) کہتے ہیں کہ ہم لوگ مرالظہران سے گزرے، تو ہم نے ایک خرگوش کو چھیڑا (اس کو اس کی پناہ گاہ سے نکالا) ، لوگ اس پر دوڑے اور تھک گئے، پھر میں نے بھی دوڑ لگائی یہاں تک کہ میں نے اسے پا لیا، اور اسے لے کر ابوطلحہ (رض) کے پاس آیا تو انہوں نے اس کو ذبح کیا، اور اس کی پٹھ اور دم گزا نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں بھیجی تو آپ ﷺ نے اسے قبول فرمایا ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الہبة ٥ (٢٥٧٢) ، الصید ١٠ (٥٤٨٩) ، ٣٢ (٥٥٣٥) ، صحیح مسلم/الصید ٩ (١٩٥٣) ، سنن ابی داود/الأطعمة ٢٧ (٣٧٩١) ، سنن الترمذی/الأطعمة ٢ (١٧٩٠) ، سنن النسائی/الصید ٢٥ (٤٣١٧) ، (تحفة الأشراف : ١٦٢٩) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/١١٨، ١٧١، ٢٩١) ، سنن الدارمی/الصید ٧ (٢٠٥٦) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: مرالظہران مکہ کے قریب ایک وادی کا نام ہے۔ جمہور اہل سنت خرگوش کے گوشت کی حلّت کے قائل ہیں، روافض اسے حرام کہتے ہیں لیکن حدیث صحیح سے اس کی حلت ثابت ہے۔