حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْأَزْهَرِ النَّيْسَابُورِيُّ، حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ جَمِيلٍ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: مَنْ يَأْكُلُ الْغُرَابَ، وَقَدْ سَمَّاهُ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ) فَاسِقًا، وَاللَّهِ مَا هُوَ مِنَ الطَّيِّبَاتِ.
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ کوّا کون کھائے گا ؟ جب کہ رسول اللہ ﷺ نے اس کو فاسق کہا، اللہ کی قسم وہ پاک چیزوں میں سے نہیں ہے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف : ٧٣٢٦، ومصباح الزجاجة : ١١١٥) (صحیح) (شریک القاضی سئی الحفظ ہیں، لیکن دوسرے طریق سے تقویت پاکر یہ صحیح ہے، سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی : ١٨٢٥ ) وضاحت : ١ ؎: یعنی طیبات میں سے جو حلال ہے بلکہ یہ خبائث میں سے ہے اس سے کوے کی حرمت ثابت ہوئی۔