حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْأَقْمَرِ، عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ (ﷺ)، قَالَ: لَا آكُلُ مُتَّكِئًا.
ابوحجیفہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : میں ٹیک لگا کر نہیں کھاتا ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الأطعمة ١٣ (٥٣٩٨، ٥٣٩٩) ، سنن ابی داود/الأطعمة ١٧ (٣٧٦٩) ، سنن الترمذی/الاطعمة ٢٨ (١٨٣٠) ، (تحفة الأشراف : ١١٨٠١) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/٣٠٨، ٣٠٩) ، سنن الدارمی/الأطعمة ٣١ (٢١١٥) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: تکیہ لگا کر کھانا تکبر اور گھمنڈ کی نشانی ہے، اس وجہ سے نبی اکرم ﷺ نے اس سے پرہیز کیا، اور بعضوں نے کہا : عجمیوں کی نشانی ہے جو تکلف میں پھنسے ہوئے ہیں، اور آپ عرب میں پیدا ہوئے تھے بےتکلفی کو پسند کرتے تھے۔