حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ الْوَلِيدِ بْنِ كَثِيرٍ، عَنْوَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ، سَمِعَهُ مِنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، قَالَ: كُنْتُ غُلَامًا فِي حِجْرِ النَّبِيِّ (ﷺ)، وَكَانَتْ يَدِي تَطِيشُ فِي الصَّحْفَةِ، فَقَالَ لِي: يَا غُلَامُ سَمِّ اللَّهَ، وَكُلْ بِيَمِينِكَ وَكُلْ مِمَّا يَلِيكَ.
عمر بن ابی سلمہ (رض) کہتے ہیں کہ میں بچہ تھا اور نبی اکرم ﷺ کے زیر تربیت تھا، میرا ہاتھ پلیٹ میں چاروں طرف چل رہا تھا ١ ؎، تو آپ ﷺ نے مجھ سے فرمایا : لڑکے ! بسم الله کہو، دائیں ہاتھ سے کھاؤ، اور اپنے قریب سے کھاؤ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الأطعمة ٢ (٥٣٧٦) ، صحیح مسلم/الإشربة ١٣ (٢٠٢٢) ، سنن النسائی/الیوم و اللیلة (٢٧٨، ٢٧٩، ٢٨٠) ، (تحفة الأشراف : ١٠٦٨٨) ، وقد أخرجہ : موطا امام مالک/صفة النبی ﷺ ١٠ (٣٢) ، مسند احمد (٤/ ٢٦) ، سنن الدارمی/الأطمة ١ (٢٠٦٢) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: یعنی میں ہر طرف سے اٹھا اٹھا کر کھا رہا تھا۔