حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَحْيَى التَّوْأَمِ، عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: انْطَلَقَ النَّبِيُّ (ﷺ) يَبُولُ فَاتَّبَعَهُ عُمَرُ بِمَاءٍ، فَقَالَ: مَا هَذَا يَا عُمَرُ؟قَالَ: مَاءٌ، قَالَ: مَا أُمِرْتُ كُلَّمَا بُلْتُ أَنْ أَتَوَضَّأَ وَلَوْ فَعَلْتُ لَكَانَتْ سُنَّةً.
ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ پیشاب کے لیے باہر تشریف لے گئے، اور عمر (رض) پیچھے سے پانی لے کر پہنچے، آپ ﷺ نے پوچھا : عمر یہ کیا ہے ؟ کہا : پانی ہے، آپ ﷺ نے فرمایا : مجھے یہ حکم نہیں دیا گیا کہ جب بھی پیشاب کروں، تو وضو کروں، اور اگر میں ایسا کروں تو یہ سنت واجبہ بن جائے گی ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الطہارة ٢٢ (٤٢) ، (تحفة الأشراف : ١٧٩٨٢) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٦/٩٥) (ضعیف) (تراجع الألبانی، رقم : ٢٩٦ ، حدیث کی سند میں عبد اللہ بن یحییٰ التوام ضعیف ہیں ) وضاحت : ١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ پیشاب کے بعد وضو کرنا ضروری نہیں۔