حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَنَا أَبُو الْيَمَانِ الْبَرَّاءُ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي جَدَّتِي أُمُّ عَاصِمٍ، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيْنَا نُبَيْشَةُ مَوْلَى النَّبِيِّ (ﷺ) وَنَحْنُ نَأْكُلُ فِي قَصْعَةٍ، فَقَالَ: قَالَ النَّبِيُّ (ﷺ): مَنْ أَكَلَ فِي قَصْعَةٍ فَلَحِسَهَا، اسْتَغْفَرَتْ لَهُ الْقَصْعَةُ.
ام عاصم بیان کرتی ہیں کہ ہمارے پاس رسول اللہ ﷺ کے غلام نبیشہ (رض) آئے، اس وقت ہم ایک بڑے پیالے میں کھانا کھا رہے تھے، انہوں نے کہا کہ نبی اکرم ﷺ کا ارشاد ہے : جو شخص کسی بڑے پیالے میں کھاتا ہے پھر چاٹ کر صاف کرتا ہے، اس کے لیے یہ پیالہ استغفار کرتا ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الأطعمة ١١ (١٨٠٤) ، (تحفة الأشراف : ١١٥٨٨) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٥/٧٦) ، سنن الدارمی/الأطمة ٧ (٢٠٧٠) (ضعیف) (سند میں ام عاصم مجہول الحال ہیں )