حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، وَدَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، قَالُوا: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا وَحْشِيُّ بْنُ حَرْبِ بْنِ وَحْشِيِّ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ وَحْشِيٍّ، أنهم قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا نَأْكُلُ وَلَا نَشْبَعُ، قَالَ: فَلَعَلَّكُمْ تَأْكُلُونَ مُتَفَرِّقِينَ، قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: فَاجْتَمِعُوا عَلَى طَعَامِكُمْ، وَاذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهِ يُبَارَكْ لَكُمْ فِيهِ.
وحشی بن حرب حبشی (رض) سے روایت ہے کہ لوگوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! ہم لوگ کھاتے ہیں لیکن سیر نہیں ہوتے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : شاید الگ الگ متفرق ہو کر کھاتے ہو ، لوگوں نے کہا : جی ہاں، آپ ﷺ نے فرمایا : کھانا مل جل کر ایک ساتھ کھاؤ، اور اللہ کا نام لیا کرو، تو اس میں تمہارے لیے برکت ہوگی ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الأطعمة ١٥ (٣٧٦٤) ، (تحفة الأشراف : ١١٧٩) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/٥٠١) (حسن) (تراجع الألبانی : رقم : ٩٧) ۔ وضاحت : ١ ؎: اس سے معلوم ہوا اجتماعی کھانا شکم سیری اور حصول برکت کا سبب ہے اور اس سے گریز بےبرکتی کا باعث ہے۔