حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ ابْنِ أَبِي حُسَيْنٍ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ، قَالَتْ: أُتِيَ النَّبِيُّ (ﷺ) بِطَعَامٍ، فَعَرَضَ عَلَيْنَا، فَقُلْنَا: لَا نَشْتَهِيهِ، فَقَالَ: لَا تَجْمَعْنَ جُوعًا وَكَذِبًا.
اسماء بنت یزید (رض) کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں کھانا لایا گیا تو آپ ﷺ نے ہم سے کھانے کو کہا، ہم نے عرض کیا : ہمیں اس کی خواہش نہیں ہے، اس پر آپ ﷺ نے فرمایا : تم لوگ بھوک اور غلط بیانی کو اکٹھا نہ کرو ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : (سند میں شہر بن حوشب ضعیف راوی ہے، لیکن شاہد کی وجہ سے حدیث حسن ہے، ملاحظہ ہو : آداب الزفاف : ٩٢، المشکاة : ٣٢٥٦ ) وضاحت : ١ ؎: بعض لوگوں کو عادت ہوتی ہے کہ کوئی کھانے کو کہے تو بھوک رکھ کر یوں کہتے ہیں : مجھے خواہش نہیں ہے، آپ ﷺ نے اس سے منع فرمایا، اگر بھوک ہے تو کھانا کھا لینا چاہیے ورنہ غلط بیانی میں بھوکا رہے، اور عذاب میں مبتلا ہو۔