حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عُثْمَانَ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا عَنْبَسَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَاذَانَ أَنَّهُ حَدَّثَهُ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي أُمُّ سَعْدٍ، قَالَتْ: دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ) عَلَى عَائِشَةَ وَأَنَا عِنْدَهَا، فَقَالَ: هَلْ مِنْ غَدَاءٍ، قَالَتْ: عِنْدَنَا خُبْزٌ وَتَمْرٌ وَخَلٌّ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ): نِعْمَ الْإِدَامُ الْخَلُّ، اللَّهُمَّ بَارِكْ فِي الْخَلِّ، فَإِنَّهُ كَانَ إِدَامَ الْأَنْبِيَاءِ قَبْلِي، وَلَمْ يَفْتَقِرْ بَيْتٌ فِيهِ خَلٌّ.
ام سعد (رض) کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ام المؤمنین عائشہ (رض) کے پاس آئے، میں انہیں کے پاس تھی، آپ نے سوال کیا : کیا کچھ کھانے کو ہے ؟ عائشہ (رض) نے جواب دیا : ہمارے پاس روٹی، کھجور اور سرکہ ہے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : سرکہ کیا ہی عمدہ سالن ہے، اے اللہ ! سر کے میں برکت عطا فرما، اس لیے کہ مجھ سے پہلے انبیاء کا سالن یہی تھا، اور ایسا گھر کبھی فقر کا شکار نہیں ہوا جس میں سرکہ موجود ہو ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف : ١٨٣٢١، ومصباح الزجاجة : ١١٤٣) (موضوع) (عنبسہ بن عبدالرحمن اور محمد بن زاذان کی وجہ سے یہ موضوع ہے، لیکن پہلا جملہ ثابت ہے، جیسا کہ اوپر گذرا، نیز ملاحظہ ہو : سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی : ٢٢٢٠ )