hadith book logo

Ibn Majah: Hadith 3363

.

سنن ابن ماجه

3363
Ibn Majah
صحیح
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عُلَيَّةَ،‏‏‏‏ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ،‏‏‏‏ عَنْ قَتَادَةَ،‏‏‏‏ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ الْغَطَفَانِيِّ،‏‏‏‏ عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ الْيَعْمَرِيِّ،‏‏‏‏ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ قَامَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ خَطِيبًا،‏‏‏‏ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ،‏‏‏‏ ثُمَّ قَالَ:‏‏‏‏ يَا أَيُّهَا النَّاسُ،‏‏‏‏ إِنَّكُمْ تَأْكُلُونَ شَجَرَتَيْنِ لَا أُرَاهُمَا إِلَّا خَبِيثَتَيْنِ:‏‏‏‏ هَذَا الثُّومُ وَهَذَا الْبَصَلُ،‏‏‏‏ وَلَقَدْ كُنْتُ أَرَى الرَّجُلَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ (ﷺ) يُوجَدُ رِيحُهُ مِنْهُ،‏‏‏‏ فَيُؤْخَذُ بِيَدِهِ حَتَّى يُخْرَجَ بِهِ إِلَى الْبَقِيعِ،‏‏‏‏ فَمَنْ كَانَ آكِلَهُمَا لَا بُدَّ فَلْيُمِتْهُمَا طَبْخًا.
معدان بن أبی طلحہ یعمری (رض) سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب (رض) جمعہ کے دن خطبے کے لیے کھڑے ہوئے، اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی پھر کہا : لوگو ! تم دو ایسے پودے کھاتے ہو جو میرے نزدیک خبیث ہیں : ایک لہسن، دوسرا پیاز، میں نے رسول اللہ ﷺ کے عہد میں دیکھا کہ جس شخص کے منہ سے ان کی بو آتی اس کا ہاتھ پکڑ کر بقیع تک لے جا کر چھوڑا جاتا، تو جس کو لہسن، پیاز کھانا ہی ہو وہ انہیں پکا کر ان کی بو مار دے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/المساجد ١٧ (٥٦٧) ، (تحفة الأشراف : ١٠٦٤٦) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (١/١٥، ٤٩، ٢٦، ٢٧، ٤٨، ٤/١٩، ٢٦، ٢٧، ٤٨) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: یعنی کچا نہ کھائے چونکہ کچے میں بو ہوتی ہے، پکانے سے بو کم ہوجاتی ہے، یا بالکل ختم ہوجاتی ہے، گرچہ پیاز اور لہسن حرام نہیں ہے مگر رسول اکرم ﷺ ان کو برا جانتے تھے، اور نہیں کھاتے تھے اس وجہ سے کہ آپ ﷺ پر وحی آتی، اور فرشتوں کو اس کی بونا گوار ہوتی، اور دوسرے لوگوں کے لئے بھی یہ حکم ہے کہ کچا نہ کھائیں اگر کچا کھائیں تو ان کو کھا کر مسجد میں نہ جائیں تاکہ دوسرے مسلمانوں کو تکلیف نہ ہو۔