حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَنْبَأَنَا أَبُو شُرَيْحٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نِمْرَانَ الْحَجْرِيِّ، عَنْأَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ نَفَرًا أَتَوْا النَّبِيَّ (ﷺ) فَوَجَدَ مِنْهُمْ رِيحِ الْكُرَّاثِ، فَقَالَ: أَلَمْ أَكُنْ نَهَيْتُكُمْ عَنْ أَكْلِ هَذِهِ الشَّجَرَةِ، إِنَّ الْمَلَائِكَةَ تَتَأَذَّى مِمَّا يَتَأَذَّى مِنْهُ الْإِنْسَانُ.
جابر (رض) سے روایت ہے کہ کچھ لوگ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے، آپ کو ان کی جانب سے گندنے کی بو محسوس ہوئی تو فرمایا : کیا میں نے تمہیں اس پودے کو کھانے سے نہیں روکا تھا ؟ یقیناً فرشتوں کے لیے وہ چیزیں باعث اذیت ہوتی ہیں، جو انسان کے لیے باعث اذیت ہیں ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف : ٧٨٧) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/الأذان ١٦٠ (٨٥٤، ٨٥٥) ، الأطعمة ٤٩ (٥٤٥٢) ، الاعتصام ٢٤ (٧٣٥٩) ، صحیح مسلم/المساجد ١٧ (٥٦٤) ، سنن ابی داود/الأطعمة ٤١ (٣٨٢٢) ، سنن الترمذی/الأطعمة ١٣ (١٨٠٦) ، سنن النسائی/المساجد ١٦ (٧٠٨) ، مسند احمد (٣/٣٧٤، ٣٨٧) (صحیح )