حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ كَثِيرِ بْنِ دِينَارٍ الْحِمْصِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عِرْقٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، قَالَ: أُهْدِيَ لِلنَّبِيِّ (ﷺ) عِنَبٌ مِنْ الطَّائِفِ فَدَعَانِي، فَقَالَ: خُذْ هَذَا الْعُنْقُودَ، فَأَبْلِغْهُ أُمَّكَ، فَأَكَلْتُهُ قَبْلَ أَنْ أُبْلِغَهُ إِيَّاهَا، فَلَمَّا كَانَ بَعْدَ لَيَالٍ، قَالَ لِي: مَا فَعَلَ الْعُنْقُودُ؟ هَلْ أَبْلَغْتَهُ أُمَّكَ؟، قُلْتُ: لَا، فَسَمَّانِي غُدَرَ.
نعمان بن بشیر (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کے پاس طائف سے انگور ہدیہ میں آئے، آپ نے مجھے بلایا اور فرمایا : یہ خوشہ لو اور اپنی ماں کو پہنچا دو ، میں نے وہ خوشہ ماں تک پہنچانے سے پہلے ہی کھالیا، جب چند روز ہوگئے تو آپ ﷺ نے مجھ سے پوچھا : خوشے کا کیا ہوا ؟ کیا تم نے اسے اپنی ماں کو دیا ؟ میں نے عرض کیا : نہیں، تو آپ ﷺ نے میرا نام (محبت و مزاح سے) دغا باز رکھ دیا۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف : ١١٦٣٣، ومصباح الزجاجة : ١١٦٦) (ضعیف) (اس کی سند میں عبدالرحمن بن عرق مقبول راوی ہیں، جن کا کوئی متابع نہیں اس لئے وہ لین الحدیث ہیں، اور اس کی وجہ سے یہ سند ضعیف ہے )