حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ، حَدَّثَنَا زَمْعَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ وَهْرَامَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ)عَنِ اخْتِنَاثِ الْأَسْقِيَةِ، وَإِنَّ رَجُلًا بَعْدَ مَا نَهَى رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ) عَنْ ذَلِكَ، قَامَ مِنَ اللَّيْلِ إِلَى سِقَاءٍ فَاخْتَنَثَهُ، فَخَرَجَتْ عَلَيْهِ مِنْهُ حَيَّةٌ.
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مشک کے منہ باہر کر کے پانی پینے سے منع فرمایا، رسول اللہ ﷺ کی اس ممانعت کے بعد ایک شخص نے رات کو اٹھ کر مشک کے منہ سے پانی پینا چاہا، تو اس میں سے ایک سانپ نکلا۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف : ٦٠٩٩، ومصباح الزجاجة : ١١٨٤) (ضعیف) (سند میں زمعہ بن صالح ضعیف راوی ہیں، لیکن مرفوع حدیث صحیح ہے، کما تقدم، نیز ملاحظہ ہو : سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی : ١١٢٦ )