حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَهِشَامُ ابْنُ عَمَّارٍ، قَالَا، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ شَرِيكٍ، قَالَ: شَهِدْتُ الْأَعْرَابَ يَسْأَلُونَ النَّبِيَّ (ﷺ) أَعَلَيْنَا حَرَجٌ فِي كَذَا؟ أَعَلَيْنَا حَرَجٌ فِي كَذَا؟ فَقَالَ لَهُمْ: عِبَادَ اللَّهِ،وَضَعَ اللَّهُ الْحَرَجَ إِلَّا مَنِ اقْتَرَضَ مِنْ عِرْضِ أَخِيهِ شَيْئًا، فَذَاكَ الَّذِي حَرِجَ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلْ عَلَيْنَا جُنَاحٌ أَنْ لَا نَتَدَاوَى؟ قَالَ: تَدَاوَوْا عِبَادَ اللَّهِ، فَإِنَّ اللَّهَ سُبْحَانَهُ لَمْ يَضَعْ دَاءً إِلَّا وَضَعَ مَعَهُ شِفَاءً، إِلَّا الْهَرَمَ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا خَيْرُ مَا أُعْطِيَ الْعَبْدُ؟ قَالَ: خُلُقٌ حَسَنٌ.
اسامہ بن شریک (رض) کہتے ہیں کہ میں نے اعرابیوں کو نبی اکرم ﷺ سے سوال کرتے دیکھا کہ کیا فلاں معاملے میں ہم پر گناہ ہے ؟ کیا فلاں معاملے میں ہم پر گناہ ہے ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا : اللہ کے بندو ! ان میں سے کسی میں بھی اللہ تعالیٰ نے گناہ نہیں رکھا سوائے اس کے کہ کوئی اپنے بھائی کی عزت سے کچھ بھی کھیلے، تو دراصل یہی گناہ ہے ، انہوں نے کہا : اللہ کے رسول ! اگر ہم دوا علاج نہ کریں تو اس میں بھی گناہ ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : اللہ کے بندو ! دوا علاج کرو، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے کوئی ایسا مرض نہیں بنایا جس کی شفاء اس کے ساتھ نہ بنائی ہو سوائے بڑھاپے کے ، انہوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! بندے کو جو چیزیں اللہ تعالیٰ نے عطا کی ہیں ان میں سے سب بہتر چیز کیا ہے ؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : حسن اخلاق ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف : ١٢٧، ومصباح الزجاجة : ١٢٧) ، وقد أخرجہ : سنن ابی داود/الطب ١ (٣٨٥٥) ، سنن الترمذی/الطب ٢ (٢٠٣٨) ، مسند احمد (٤/٢٧٨) (صحیح )