حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الصَّمَدِ، حَدَّثَنَا مَطَرٌ الْوَرَّاقُ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: كُنَّا نَتَحَدَّثُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ (ﷺ) فَذَكَرْنَا الْكَمْأَةَ، فَقَالُوا: هُوَ جُدَرِيُّ الْأَرْضِ، فَنُمِيَ الْحَدِيثُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ (ﷺ)، فَقَالَ: الْكَمْأَةُ مِنَ الْمَنِّ، وَالْعَجْوَةُ مِنَ الْجَنَّةِ، وَهِيَ شِفَاءٌ مِنَ السَّمِّ.
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ ﷺ کے پاس گفتگو کر رہے تھے کہ کھمبی کا ذکر آگیا، تو لوگوں نے کہا : وہ تو زمین کی چیچک ہے، یہ بات رسول اللہ ﷺ تک پہنچی تو آپ ﷺ نے فرمایا : کھمبی منّ میں سے ہے، اور عجوہ کھجور جنت کا پھل ہے، اور اس میں زہر سے شفاء ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الطب ٢٢ (٢٠٦٨) ، (تحفة الأشراف : ١٣٤٩٦) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/٣٠١، ٣٠٥، ٣٥٦، ٣٥٧، ٤٢١، ٤٨٨، ٤٩٠، ٥١١) ، سنن الدارمی/الرقاق ١١٥ (٢٨٨٢) (صحیح )