حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ، عَنْ زُرْعَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْمَوْلًى لِمَعْمَرٍ التَّيْمِيِّ، عَنْ مَعْمَرٍ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ، قَالَتْ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ): بِمَاذَا كُنْتِ تَسْتَمْشِينَ؟، قُلْتُ: بِالشُّبْرُمِ، قَالَ: حَارٌّ جَارٌّ، ثُمَّ اسْتَمْشَيْتُ بِالسَّنَى، فَقَالَ: لَوْ كَانَ شَيْءٌ يَشْفِي مِنَ الْمَوْتِ، كَانَ السَّنَي وَالسَّنَي شِفَاءٌ مِنَ الْمَوْتِ.
اسماء بنت عمیس (رض) کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے پوچھا : تم مسہل کس چیز کا لیتی تھی ؟ میں نے عرض کیا : شبرم سے، آپ ﷺ نے فرمایا : وہ تو بہت گرم ہے ، پھر میں سنا کا مسہل لینے لگی، تو آپ ﷺ نے فرمایا : اگر کوئی چیز موت سے نجات دے سکتی تو وہ سنا ہوتی، سنا ہر قسم کی جان لیوا امراض سے شفاء دیتی ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الطب ٣٠ (٢٠٨١) ، (تحفة الأشراف : ١٥٧٥٩) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٦/٣٦٩) (ضعیف) (زرعہ بن عبد الرحمن مجہول اور مولی معمر مبہم راوی ہیں ) وضاحت : ١ ؎: ایک گرم اور سخت قسم کا چنے کے برابر دانہ ہوتا ہے۔