حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، وَرَاشِدُ بْنُ سَعِيدٍ الرَّمْلِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: قَال رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ): مَنْ تَطَبَّبَ، وَلَمْ يُعْلَمْ مِنْهُ طِبٌّ قَبْلَ ذَلِكَ، فَهُوَ ضَامِنٌ.
عبداللہ بن عمرو بن العاص (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو شخص علاج کرنے لگے حالانکہ اس سے پہلے اس کے طبیب ہونے کا کسی کو علم نہیں تھا، تو وہ ضامن (ذمہ دار) ہوگا ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الدیات ٢٥ (٤٥٨٦) ، سنن النسائی/القسامة ٣٤ (٤٨٣٤) ، (تحفة الأشراف : ٨٧٤٦) (حسن) (سند میں ابن جریج مدلس راوی ہیں، اور عنعنہ سے روایت کی ہے، لیکن شاہد کی وجہ سے یہ حسن ہے ) وضاحت : ١ ؎: اگر جان جاتی رہی تو اس کو آدھی دیت دینی ہوگی، اور جو کوئی عضو بیکار ہوجائے اس کی بھی دیت دینا ہوگی۔