حَدَّثَنَا أَبُو طَاهِرٍ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ الْمِصْرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَنْبَأَنَا يُونُسُ، وَابْنُ سَمْعَانَ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ أُمِّ قَيْسٍ بِنْتِ مِحْصَنٍ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ): عَلَيْكُمْ بِالْعُودِ الْهِنْدِيِّ يَعْنِي: بِهِ الْكُسْتَ، فَإِنَّ فِيهِ سَبْعَةَ أَشْفِيَةٍ مِنْهَا ذَاتُ الْجَنْبِ، قَالَ ابْنُ سَمْعَانَ فِي الْحَدِيثِ: فَإِنَّ فِيهِ شِفَاءً مِنْ سَبْعَةِ أَدْوَاءٍ مِنْهَا ذَاتُ الْجَنْبِ.
ام قیس بنت محصن (رض) کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تمہارے لیے عود ہندی کا استعمال لازمی ہے کست کا اس لیے کہ اس میں سات بیماریوں سے شفاء ہے، ان میں ایک ذات الجنب بھی ہے ۔ ابن سمعان کے الفاظ اس حدیث میں یہ ہیں : فإن فيه شفاء من سبعة أدواء منها ذات الجنب اس میں سات امراض کا علاج ہے، ان میں سے ایک مرض ذات الجنب ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الطب ٢١ (٥٧١٣) ، صحیح مسلم/السلام ٢٨ (٢٢١٤) ، سنن ابی داود/الطب ١٣ (٣٨٧٧) ، (تحفة الأشراف : ١٨٣٤٣) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٦/٣٥٥، ٣٥٦) (صحیح )