حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ، عَنْأَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، أَنَّهَا كَانَتْ تُؤْتَى بِالْمَرْأَةِ الْمَوْعُوكَةِ، فَتَدْعُو بِالْمَاءِ فَتَصُبُّهُ فِي جَيْبِهَا، وَتَقُولُ: إِنّ النَّبِيَّ (ﷺ)، قَالَ: ابْرُدُوهَا بِالْمَاءِ، وَقَالَإِنَّهَا مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ.
اسماء بنت ابی بکر (رض) سے روایت ہے کہ ان کے پاس بخار کی مریضہ ایک عورت لائی جاتی تھی، تو وہ پانی منگواتیں، پھر اسے اس کے گریبان میں ڈالتیں، اور کہتیں کہ نبی اکرم ﷺ کا ارشاد ہے کہ اسے پانی سے ٹھنڈا کرو نیز آپ ﷺ کا ارشاد ہے کہ یہ جہنم کی بھاپ ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الطب ٢٨ (٥٧٢٤) ، صحیح مسلم/السلام ٢٦ (٢٢١١) ، سنن الترمذی/الطب ٢٥ (٢٠٧٤) ، (تحفة الأشراف : ١٥٧٤٤) وقد أخرجہ : موطا امام مالک/العین ٦ (١٥) ، مسند احمد (٦/٣٤٦) (صحیح )