حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ الْمِصْرِيُّ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ (ﷺ)، اسْتَأْذَنَتْ رَسُولَ اللَّهِ (ﷺ) فِي الْحِجَامَةِ،فَأَمَرَ النَّبِيُّ (ﷺ) أَبَا طَيْبَةَ أَنْ يَحْجُمَهَا، وَقَالَ: حَسِبْتُ أَنَّهُ كَانَ أَخَاهَا مِنَ الرِّضَاعَةِ أَوْ غُلَامًا لَمْ يَحْتَلِمْ.
جابر (رض) سے روایت ہے کہ ام المؤمنین ام سلمہ (رض) نے رسول اللہ ﷺ سے پچھنا لگانے کی اجازت طلب کی تو نبی اکرم ﷺ نے ابوطیبہ کو حکم دیا کہ وہ انہیں پچھنا لگائے، جابر (رض) کہتے ہیں کہ میرا خیال ہے کہ ابوطیبہ یا تو ام سلمہ (رض) کے رضاعی بھائی تھے یا پھر نابالغ لڑکے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/السلام ٢٦ (٢٢٠٦) ، سنن ابی داود/اللباس ٣٥ (٤١٠٥) ، (تحفة الأشراف : ٢٩٠٩) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/٣٥٠) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: ورنہ اجنبی مرد کو آپ پچھنے لگانے کا کیسے حکم دیتے، اگرچہ ضرورت کے وقت بیماری کے مقام کو طبیب کا دیکھنا جائز ہے بیماری کے مقام کی طرف۔