حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ آلِ الشَّرِيدِ يُقَالُ لَهُ عَمْرٌو، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كَانَ فِي وَفْدِ ثَقِيفٍ رَجُلٌ مَجْذُومٌ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ (ﷺ): ارْجِعْ فَقَدْ بَايَعْنَاكَ.
شرید بن سوید ثقفی (رض) کہتے ہیں کہ وفد ثقیف میں ایک جذامی شخص تھا، نبی اکرم ﷺ نے اسے کہلا بھیجا : تم لوٹ جاؤ ہم نے تمہاری بیعت لے لی ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/السلام ٣٦ (٢٢٣١) ، سنن النسائی/البیعة ١٩ (٤١٨٧) ، (تحفة الأشراف : ٤٨٣٧) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/٣٨٩، ٣٩٠) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: کیونکہ زیادہ دیکھنے سے دل میں وسوسہ اور اندیشہ پیدا ہوگا، اگر کبھی ایسے مصیبت زدہ پر نظر پڑجائے تو یوں کہے : الحمد لله الذى عافانى مما ابتلاک به وفضلنى على كثير ممن خلق تفضيلا۔