حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ كَثِيرِ بْنِ دِينَارٍ الْحِمْصِيُّ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ العنسيْ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، وَمُحَمَّدِ بْنِ يَزِيدَ الْمِصْرِيَّيْنِ، قَالَا: حَدَّثَنَا نَافِعٌ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَا يَزَالُ يُصِيبُكَ كُلَّ عَامٍ وَجَعٌ مِنَ الشَّاةِ الْمَسْمُومَةِ الَّتِي أَكَلْتَ، قَالَ: مَا أَصَابَنِي شَيْءٌ مِنْهَا، إِلَّا وَهُوَ مَكْتُوبٌ عَلَيَّ، وَآدَمُ فِي طِينَتِهِ.
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ ام المؤمنین ام سلمہ (رض) نے رسول اللہ ﷺ سے کہا : اللہ کے رسول ! آپ کو ہر سال اس زہریلی بکری کی وجہ سے جو آپ نے کھائی تھی، تکلیف ہوتی ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : مجھے اس کی وجہ سے کچھ بھی ہوا وہ میرے مقدر میں اسی وقت لکھ دیا گیا تھا جب آدم مٹی کے پتلے تھے ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف : ٨٤٤٣، ٨٥٣٢، ومصباح الزجاجة : ١٢٣٧) (ضعیف) (سند میں ابوبکر عنسی مجہول الحال راوی ہیں )