حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو تُمَيْلَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمُؤْمِنِ بْنِ خَالِدٍ، عَنْ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْأُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: لَمْ يَكُنْ ثَوْبٌ أَحَبَّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ (ﷺ) مِنَ الْقَمِيصِ.
ام المؤمنین ام سلمہ (رض) کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کو کرتے (قمیص) سے بڑھ کر کوئی لباس محبوب اور پسندیدہ نہ تھا ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/اللباس ٣ (٤٠٢٥، ٤٠٢٦) ، سنن الترمذی/اللباس ٢٨ (١٧٦٣، ١٧٦٤) ، (تحفة الأشراف : ١٨١٦٩) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٦/٦٠٦، ٣١٧، ٣١٨، ٣٢١) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: یعنی سلے ہوئے کپڑوں میں، اور کپڑے کی جنس تو دوسری روایت میں ہے کہ سب سے زیادہ پسند آپ ﷺ کو حبرہ تھا یعنی دھاری دار کپڑا جس میں سرخ دہاریاں ہوتی ہیں، اور اس زمانہ میں یہ کپڑا روئی کے سب کپڑوں میں عمدہ تھا۔