حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ أَبِي فَاخِتَةَ، حَدَّثَنِيهُبَيْرَةُ بْنُ يَرِيمَ، عَنْ عَلِيٍّ، أَنَّهُ أُهْدِيَ لِرَسُولِ اللَّهِ (ﷺ) حُلَّةٌ مَكْفُوفَةٌ بِحَرِيرٍ، إِمَّا سَدَاهَا، وَإِمَّا لَحْمَتُهَا فَأَرْسَلَ بِهَا إِلَيَّ فَأَتَيْتُهُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا أَصْنَعُ بِهَا أَلْبَسُهَا، قَالَ: لَا وَلَكِنْ اجْعَلْهَا خُمُرًا بَيْنَ الْفَوَاطِمِ.
علی (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں ایک ریشمی (جوڑا) تحفہ میں آیا جس کے تانے یا بانے میں ریشم ملا ہوا تھا، آپ نے وہ میرے پاس بھیج دیا، میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا، اور عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں اس کا کیا کروں ؟ کیا میں اسے پہنوں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : نہیں، بلکہ اسے فاطماؤں کی اوڑھنیاں بنادو ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف : ١٠٣٠٨) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/اللباس ٣٠ (٥٨٤٠) ، صحیح مسلم/اللباس ٢ (٢٠٧١) ، سنن ابی داود/اللباس ١٠ (٤٠٤٣) ، سنن النسائی/الزینة من المجتبیٰ ٣٠ (٥٣٠٠) ، مسند احمد (١/٩٠، ١٣٠، ١٥٣) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: ایک فاطمہ بنت اسد علی (رض) کی ماں، دوسری فاطمہ بنت حمزہ رضی اللہ عنہ، تیسری سیدۃ النسا، فاطمہ (رض) صاحبزادی رسول اللہ ﷺ ۔