حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: جِيءَ بِأَبِي قُحَافَةَ، يَوْمَ الْفَتْحِ إِلَى النَّبِيِّ (ﷺ) وَكَأَنَّ رَأْسَهُ ثَغَامَةٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ): اذْهَبُوا بِهِ إِلَى بَعْضِ نِسَائِهِ فَلْتُغَيِّرْهُ، وَجَنِّبُوهُ السَّوَادَ.
جابر (رض) کہتے ہیں کہ فتح مکہ کے دن ابوقحافہ (رض) کو نبی اکرم ﷺ کے پاس لایا گیا، اس وقت ان کے بال سفید گھاس کی طرح تھے، چناچہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : انہیں ان کی کسی عورت کے پاس لے جاؤ کہ وہ انہیں بدل دے (یعنی خضاب لگا دے) ، لیکن کالے خضاب سے انہیں بچاؤ ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف : ٢٩٣٢، ومصباح الزجاجة : ١٢٦٣) ، وقد أخرجہ : صحیح مسلم/اللباس ٢٤ (٢١٠٢) ، سنن ابی داود/الترجل ١٨ (٤٢٠٤) ، سنن النسائی/الزینة ١٥ (٥٠٧٩) ، الزینة من المجتبیٰ ١٠ (٥٢٤٤) ، مسند احمد (٣/، ٣٢٢، ٣٣٨) (صحیح) (سند میں لیث بن ابی سلیم ضعیف ہیں، لیکن دوسرے طرق سے یہ صحیح ہے، کمافی التخریج ) وضاحت : ١ ؎: خضاب لگانے کا مقصد یہود و نصاریٰ کی مخالفت ہے، اہل کتاب کی مخالفت رسول اکرم ﷺ خود کرتے تھے، اور اس کا حکم بھی دیتے تھے، البتہ اس حدیث کی روشنی میں کالے خضاب سے بچنا چاہیے۔