حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ نَافِعٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ)،عَنِ الْقَزَعِ، قَالَ: وَمَا الْقَزَعُ؟ قَالَ: أَنْ يُحْلَقَ مِنْ رَأْسِ الصَّبِيِّ مَكَانٌ، وَيُتْرَكَ مَكَانٌ.
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے قزع سے منع فرمایا۔ راوی نے کہا : قزع کیا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : بچے کے سر کے بال ایک جگہ کے کاٹ دئیے جائیں، اور دوسری جگہ کے چھوڑ دئیے جائیں، اسے قزع کہتے ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/اللباس ٧٢ (٥٩٢٠) ، صحیح مسلم/اللباس ٣١ (٢١٢٠) ، سنن ابی داود/الترجل ١٤ (٤١٩٣) ، سنن النسائی/الزینة ٥ (٥٠٥٣) ، (تحفة الأشراف : ٨٢٤٣) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/٤، ٣٩، ٥٥، ٦٧، ٨٢، ٨٣، ١٠١، ١٠٦، ١١٨، ١٣٧، ١٤٣، ١٥٤) (صحیح )