حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أَبِي طَلْحَةَ، عَنِ النَّبِيِّ (ﷺ)، قَالَ: لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِكَةُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ وَلَا صُورَةٌ.
عبداللہ بن عباس (رض) سے روایت ہے کہ ابوطلحہ (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اس گھر میں فرشتے نہیں داخل ہوتے جس میں کتا اور تصویر ہو ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/بدء الخلق ٧ (٣٢٢٥) ، ١٧ (٣٣٢٢) ، المغازي ١٢ (٤٠٠٢) ، اللباس ٨٨ (٥٩٤٩) ، ٩٢ (٥٩٥٨) ، صحیح مسلم/اللباس ٢٦ (٢١٠٦) ، سنن ابی داود/اللباس ٤٨ (٤١٥٣) ، سنن الترمذی/الأدب ٤٤ (٢٨٠٤) ، سنن النسائی/الصید والذبائح ١١ (٤٢٨٧) ، سنن النسائی/الزینة من المجتبیٰ ٥٧ (٥٣٤٩) ، (تحفة الأشراف : ٣٧٧٩) ، وقد أخرجہ : موطا امام مالک/الاستئذان ٣ (٦) ، مسند احمد (٤/٢٨، ٢٩، ٣٠) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: وہ کتے جو کھیت اور جائداد کی رکھوالی، یا شکار کے لئے ہوں اس ممانعت کے حکم سے مستثنیٰ ہیں، اور تصویر سے بےجان چیزوں کی تصویریں مستثنیٰ ہیں۔