حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: وَاعَدَ رَسُولَ اللَّهِ (ﷺ) جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام فِي سَاعَةٍ يَأْتِيهِ فِيهَا فَرَاثَ عَلَيْهِ، فَخَرَجَ النَّبِيُّ (ﷺ) فَإِذَا هُوَ بِجِبْرِيلَ قَائِمٌ عَلَى الْبَابِ، فَقَالَ: مَا مَنَعَكَ أَنْ تَدْخُلَ، قَالَ: إِنَّ فِي الْبَيْتِ كَلْبًا، وَإِنَّا لَا نَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ وَلَا صُورَةٌ.
ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ جبرائیل (علیہ السلام) نے رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک ایسے وقت میں آنے کا وعدہ کیا جس میں وہ آیا کرتے تھے، لیکن آنے میں دیر کی تو نبی اکرم ﷺ باہر نکلے، دیکھا تو جبرائیل (علیہ السلام) دروازے پر کھڑے ہیں، آپ ﷺ نے پوچھا : آپ کو اندر آنے سے کس چیز نے باز رکھا ؟ فرمایا : گھر میں کتا ہے، اور ہم لوگ ایسے گھر میں داخل نہیں ہوتے جہاں کتے اور تصویریں ہوں ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف : ١٧٧٦١، ومصباح الزجاجة : ١٢٦٧) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٦/١٤٢) (صحیح )