حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُلَيٍّ، سَمِعْتُ أَبِي يَذْكُرُ، عَنْ سُرَاقَةَ بْنِ مَالِكٍ، أَنّ النَّبِيَّ (ﷺ)، قَالَ: أَلَا أَدُلُّكُمْ عَلَى أَفْضَلِ الصَّدَقَةِ؟ ابْنَتُكَ مَرْدُودَةً إِلَيْكَ لَيْسَ لَهَا كَاسِبٌ غَيْرُكَ.
سراقہ بن مالک (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : کیا میں تم کو افضل صدقہ نہ بتادوں ؟ اپنی بیٹی کو صدقہ دو ، جو تمہارے پاس آگئی ہو ١ ؎، اور تمہارے علاوہ اس کا کوئی کمانے والا بھی نہ ہو ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف : ٣٨٢١، ومصباح الزجاجة : ١٢٧٥) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/١٧٥) (ضعیف) (علی بن رباح کا سماع سراقہ (رض) سے نہیں ہے اس لئے سند میں انقطاع ہے ) وضاحت : ١ ؎: یعنی شوہر کی موت یا طلاق کی وجہ سے۔