حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، أَنْبَأَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، أَخْبَرَنِي إِسْحَاق بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ الْأَنْصَارِيُّ، عَنْ حُمَيْدَةَ بِنْتِ عُبَيْدِ بْنِ رِفَاعَةَ، عَنْ كَبْشَةَ بِنْتِ كَعْبٍ، وَكَانَتْ تَحْتَ بَعْضِ وَلَدِ أَبِي قَتَادَةَ، أَنَّهَا صَبَّتْ لِأَبِي قَتَادَةَ مَاءً يَتَوَضَّأُ بِهِ، فَجَاءَتْ هِرَّةٌ تَشْرَبُ فَأَصْغَى لَهَا الْإِنَاءَ، فَجَعَلْتُ أَنْظُرُ إِلَيْهِ، فَقَالَ: يَا ابْنَةَ أَخِي أَتَعْجَبِينَ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ): إِنَّهَا لَيْسَتْ بِنَجَسٍ، هِيَ مِنَ الطَّوَّافِينَ، أَوِ الطَّوَّافَاتِ.
کبشہ بنت کعب (رض) جو ابوقتادہ کی بہو تھیں کہتی ہیں کہ انہوں نے ابوقتادہ (رض) کے وضو کے لیے پانی نکالا تو ایک بلی آئی اور اس میں سے پینے لگی، ابوقتادہ (رض) نے اس کے لیے برتن جھکا دیا، میں ان کی جانب حیرت سے دیکھنے لگی تو انہوں نے کہا : بھتیجی ! تمہیں تعجب ہو رہا ہے ؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے : بلی ناپاک نہیں ہے وہ گھروں میں گھومنے پھرنے والوں یا والیوں میں سے ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الطہارة ٣٨ (٧٥) ، سنن الترمذی/الطہارة ٦٩ (٩٢) ، سنن النسائی/الطہارة ٥٤ (٦٨) ، (تحفة الأشراف : ١٢١٤١) ، وقد أخرجہ : موطا امام مالک/الطہارة ٣ (١٣) ، مسند احمد (٥/٢٩٦، ٣٠٣، ٣٠٩) ، سنن الدارمی/الطہارة ٥٨ (٧٦٣) (صحیح )