حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ، عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّدُوسِيِّ،، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيَنْحَنِي بَعْضُنَا لِبَعْضٍ؟ قَالَ: لَا، قُلْنَا: أَيُعَانِقُ بَعْضُنَا بَعْضًا؟ قَالَ: لَا وَلَكِنْ تَصَافَحُوا.
انس بن مالک (رض) کہتے ہیں کہ ہم نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کیا (ملاقات کے وقت) ہم ایک دوسرے سے جھک کر ملیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : نہیں ، پھر ہم نے عرض کیا : کیا ہم ایک دوسرے سے معانقہ کریں (گلے ملیں) ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : نہیں، بلکہ مصافحہ کیا کرو (ہاتھ سے ہاتھ ملاؤ) ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الإستئذان ٣١ (٢٧٢٨) ، (تحفة الأشراف : ٨٢٢) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/١٩٨) (حسن) (سند میں حنظلہ ضعیف ہے، لیکن معانقہ کے جملہ کے بغیر یہ دوسری سند سے حسن ہے، ملاحظہ ہو : الصحیحة : ١٦٠ )