حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ وَاصِلِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِي سَوْرَةَ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ، قَالَ: قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَذَا السَّلَامُ، فَمَا الِاسْتِئنَاسُ؟ قَالَ: يَتَكَلَّمُ الرَّجُلُ تَسْبِيحَةً، وَتَكْبِيرَةً، وَتَحْمِيدَةً، وَيَتَنَحْنَحُ، وَيُؤْذِنُ أَهْلَ الْبَيْتِ.
ابوایوب انصاری (رض) کہتے ہیں کہ ہم نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! سلام تو ہمیں معلوم ہے، لیکن استئذان کیا ہے ؟ (یعنی ہم اجازت کیسے طلب کریں) آپ ﷺ نے فرمایا : استئذان یہ ہے کہ آدمی تسبیح، تکبیر اور تحمید (یعنی سبحان الله، الله أكبر، الحمد لله کہہ کر یا کھنکار کر) سے گھر والوں کو خبردار کرے ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف : ٣٤٩٨، ومصباح الزجاجة : ١٢٩٢) (ضعیف) (سند میں ابوسورہ منکر الحدیث ہے )