حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: عَطَسَ رَجُلَانِ عِنْدَ النَّبِيِّ (ﷺ)، فَشَمَّتَ أَحَدَهُمَا أَوْ سَمَّتَ وَلَمْ يُشَمِّتِ الْآخَرَ، فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، عَطَسَ عِنْدَكَ رَجُلَانِ، فَشَمَّتَّ أَحَدَهُمَا وَلَمْ تُشَمِّتِ الْآخَرَ، فَقَالَ: إِنَّ هَذَا حَمِدَ اللَّهَ، وَإِنَّ هَذَا لَمْ يَحْمَدِ اللَّهَ.
انس بن مالک (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کے سامنے دو آدمیوں نے چھینکا تو آپ ﷺ نے ایک کے جواب میں يرحمک الله اللہ تم پر رحم کرے کہا، اور دوسرے کو جواب نہیں دیا، تو عرض کیا گیا : اللہ کے رسول ! آپ کے سامنے دو آدمیوں نے چھینکا، آپ نے ایک کو جواب دیا دوسرے کو نہیں دیا، اس کا سبب کیا ہے ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا : ایک نے (چھینکنے کے بعد) الحمد لله کہا، اور دوسرے نے نہیں کہا ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الأدب ١٢٣ (٦٢٢١) ، ١٢٧ (٦٢٢٥) ، صحیح مسلم/الزہد ٩ (٢٩٩١) ، سنن ابی داود/الأدب ١٠٢ (٥٠٣٩) ، سنن الترمذی/الأدب ٤ (٢٧٤٣) ، (تحفة الأشراف : ٨٧٢) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/١٠٠، ١١٧، ١٧٦) ، سنن الدارمی/الاستئذان ٣١ (٢٧٠٢) (صحیح )