حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ) يُخَالِطُنَا، حَتَّى يَقُول لِأَخٍ لِي صَغِيرٍ: يَا أَبَا عُمَيْرٍ، مَا فَعَلَ النُّغَيْ؟، قَالَ وَكِيعٌ: يَعْنِي طَيْرًا كَانَ يَلْعَبُ بِهِ.
انس بن مالک (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہم لوگوں سے (یعنی بچوں سے) میل جول رکھتے تھے، یہاں تک کہ میرے چھوٹے بھائی سے فرماتے : يا أبا عمير ما فعل النغير اے ابوعمیر ! تمہارا وہ نغیر (پرندہ) کیا ہوا ؟ وکیع نے کہا نغیر سے مراد وہ پرندہ ہے جس سے ابوعمیر کھیلا کرتے تھے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الأدب ٨١ (٦١٢٩) ، صحیح مسلم/الآداب ٥ (٢١٥٠) ، سنن ابی داود/الصلاة ٩٢ (٦٥٨) ، سنن الترمذی/الصلاة ١٣١ (٣٣٣) ، (تحفة الأشراف : ١٦٩٢) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/١١٩، ١٧١، ١٩٠، ٢١٢، ٢٧٠) (صحیح )