حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ نُعَيْمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُجْمِرِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ ابْنِ طِخْفَةَ الْغِفَارِيِّ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: مَرَّ بِيَ النَّبِيُّ (ﷺ) وَأَنَا مُضْطَجِعٌ عَلَى بَطْنِي، فَرَكَضَنِي بِرِجْلِهِ، وَقَالَ: يَا جُنَيْدِبُ، إِنَّمَا هَذِهِ ضِجْعَةُ أَهْلِ النَّارِ.
ابوذر (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ میرے پاس سے گزرے اس حال میں کہ میں پیٹ کے بل لیٹا ہوا تھا، تو آپ ﷺ نے مجھے اپنے پیر سے ہلا کر فرمایا : جنيدب! (یہ ابوذر کا نام ہے) سونے کا یہ انداز تو جہنمیوں کا ہے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف : ١١٩٢٦، ومصباح الزجاجة : ١٣٠٣) (صحیح) (سند میں محمد بن نعیم میں کلام ہے، لیکن شواہد کی وجہ سے حدیث صحیح ہے ) وضاحت : ١ ؎: پیٹ کے بل سونے میں جہنمیوں کی مشابہت ہے، قرآن میں ہے : يوم يسحبون في النار على وجوههم ذوقوا مس سقر (سورة القمر : 48) یعنی اوندھے منہ جہنم میں کھینچے جائیں گے، یہ بھی ایک ممانعت کی وجہ ہے۔