حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ) بِالْبَقِيعِ، فَنَادَى رَجُلٌ رَجُلًا يَا أَبَا الْقَاسِمِ، فَالْتَفَتَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ)، فَقَالَ: إِنِّي لَمْ أَعْنِكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ): تَسَمَّوْا بِاسْمِي، وَلَا تَكَنَّوْا بِكُنْيَتِي.
انس (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ مقبرہ بقیع میں تھے کہ ایک شخص نے دوسرے کو آواز دی : اے ابوالقاسم ! آپ ﷺ اس کی جانب متوجہ ہوئے، تو اس نے عرض کیا کہ میں نے آپ کو مخاطب نہیں کیا، تب آپ ﷺ نے فرمایا : تم لوگ میرے نام پر نام رکھو، لیکن میری کنیت پر کنیت نہ رکھو ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف : ٧٢٧) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/البیوع ٤٩ (٢١٢٠) ، المناقب ٢٠ (٣٥٣٧) ، صحیح مسلم/الآداب ١ (٢١٣١) ، سنن الترمذی/الأدب ٦٨ (٢٨٤١) (صحیح )