حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَدَّادٍ، عَنْ أَبِي عُذْرَةَ، قَالَ: وَكَانَ قَدْ أَدْرَكَ النَّبِيَّ (ﷺ)، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ (ﷺ)نَهَى الرِّجَالَ وَالنِّسَاءَ مِنَ الْحَمَّامَاتِ، ثُمَّ رَخَّصَ لِلرِّجَالِ أَنْ يَدْخُلُوهَا فِي الْمَيَازِرِ، وَلَمْ يُرَخِّصْ لِلنِّسَاءِ.
ام المؤمنین عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے (پہلے) مردوں اور عورتوں دونوں کو حمام میں جانے سے منع کیا تھا، پھر مردوں کو تہبند پہن کر جانے کی اجازت دی، اور عورتوں کو اجازت نہیں دی ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف : ١٧٧٩٨، ومصباح الزجاجة : ١٣١٠) ، وقد أخرجہ : سنن ابی داود/الحمام ١ (٤٠٠٩) ، سنن الترمذی/الأدب ٤٣ (٢٨٠٢) ، ولم یذکرا : ولم يرخص للنساء مسند احمد (٦/١٣٢، ١٣٩، ١٧٩) (ضعیف) (ابوعذرہ مجہول راوی ہیں، ترمذی نے حدیث کو غریب یعنی ضعیف کہا ہے )