حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ الْحَارِثِ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ (ﷺ) وَأَهْلُهُ يَغْتَسِلُونَ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ، وَلَا يَغْتَسِلُ أَحَدُهُمَا بِفَضْلِ صَاحِبِهِ.
علی (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ اور آپ کی ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن ایک ہی برتن سے غسل کرتے تھے، اور کوئی ایک دوسرے کے بچے ہوئے پانی سے غسل نہیں کرتا تھا ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف : ١٠٠٥١، ومصباح الزجاجة : ١٥٦) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (١/٧٧) (ضعیف) (اس سند میں الحارث الاعور ضعیف راوی ہے ) وضاحت : ١ ؎: ظاہر یہ ہے کہ غسل ایک کا دوسرے کے بچے ہوئے پانی سے جائز ہے، مگر نہی جو وارد ہوئی ہے تنزیہی ہے، یعنی نہ کرنا اولیٰ اور بہتر ہے۔