حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ): لَوْ يَعْلَمُ أَحَدُكُمْ مَا فِي الْوَحْدَةِ، مَا سَارَ أَحَدٌ بِلَيْلٍ وَحْدَهُ.
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اگر تم میں سے کسی کو تنہائی کی برائی اور خرابی معلوم ہوجاتی، تو وہ کبھی رات میں تنہا نہ چلتا ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الجہاد ١٣٥ (٢٩٩٨) ، سنن الترمذی/الجہاد ٤ (١٦٧٣) ، (تحفة الأشراف : ٧٤١٩) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/٢٣، ٢٤، ٦٠، ٨٦، ١١٢، ١٢٠) ، سنن الدارمی/الاسئذان ٤٧ (٢٧٢١) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: غزوہ خندق کے موقع پر زبیر (رض) کو رسول اللہ ﷺ نے جاسوسی کے لیے تنہا بھیجا تھا، اس سے معلوم ہوا کہ کسی جنگی ضرورت کے پیش نظر اکیلے سفر کرنے میں کوئی حرج نہیں۔