حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ عَبْدِ الْجَبَّارِ بْنِ وَائِلٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ (ﷺ)، فَقَالَ رَجُلٌ: الْحَمْدُ لِلَّهِ حَمْدًا كَثِيرًا، طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ، فَلَمَّا صَلَّى النَّبِيُّ (ﷺ)، قَالَ: مَنْ ذَا الَّذِي قَالَ هَذَا؟، قَالَ الرَّجُلُ: أَنَا، وَمَا أَرَدْتُ إِلَّا الْخَيْرَ، فَقَالَ: لَقَدْ فُتِحَتْ لَهَا أَبْوَابُ السَّمَاءِ، فَمَا نَهْنَهَهَا شَيْءٌ دُونَ الْعَرْشِ.
وائل (رض) کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی، ایک شخص نے (سمع الله لمن حمده کے بعد) الحمد لله حمدا کثيرا طيبا مبارکا فيه کہا، جب رسول اللہ ﷺ نماز سے فارغ ہوئے تو آپ ﷺ نے پوچھا : یہ کلمہ کس نے کہا ؟ اس شخص نے عرض کیا : میں نے یہ کلمہ کہا اور اس سے میری نیت خیر کی تھی، آپ ﷺ نے فرمایا : اس کلمہ کے لیے آسمان کے دروازے کھول دئیے گئے، اور اس کلمے کو عرش تک پہنچنے سے کوئی چیز نہیں روک سکی ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف : ١١٧٦٥، ومصباح الزجاجة : ١٣٢٨) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/٣١٦، ٣١٨، ٣١٩) (ضعیف) (ابو سحاق سبیعی مدلس و مختلط راوی ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے، اور عبد الجبار بن وائل ثقہ راوی ہیں، لیکن اپنے والد سے ان کی روایت مرسل ہے، یہ حدیث ابن عمر اور انس (رض) سے ثابت ہے، لیکن فما نهنهها شيء دون العرش ثابت نہیں )