حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدٍ الْمَدَنِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْنٍ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي زَيْنَبَ مَوْلَى حَازِمِ بْنِ حَرْمَلَةَ، عَنْ حَازِمِ بْنِ حَرْمَلَةَ، قَالَ: مَرَرْتُ بِالنَّبِيِّ (ﷺ)، فَقَالَ لِي: يَا حَازِمُ، أَكْثِرْ مِنْ قَوْلِ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ، فَإِنَّهَا مِنْ كُنُوزِ الْجَنَّةِ.
حازم بن حرملہ (رض) کہتے ہیں کہ میں (ایک روز) نبی اکرم ﷺ کے پاس سے گزرا تو آپ نے مجھ سے فرمایا : اے حازم ! تم لا حول ولا قوة إلا بالله کثرت سے پڑھا کرو، کیونکہ یہ کلمہ جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف : ٣٢٨٩، ومصباح الزجاجة : ١٣٤٢) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٥/١٤٥، ١٥٠، ١٥٢) (صحیح) (سند میں ابوزینب مجہول راوی ہیں، اور خالد بن سعید مقبول عند المتابعہ، لیکن حدیث سابقہ شواہد سے تقویت پاکر صحیح ہے )