حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ، حَدَّثَنَا أَبُو عَقِيلٍ، عَنْ سَابِقٍ، عَنْ أَبِي سَلَّامٍ، خَادِمِ النَّبِيِّ (ﷺ)، عَنِ النَّبِيِّ (ﷺ)، قَالَ: مَا مِنْ مُسْلِمٍ، أَوْ إِنْسَانٍ، أَوْ عَبْدٍ، يَقُولُ حِينَ يُمْسِي وَحِينَ يُصْبِحُ: رَضِيتُ بِاللَّهِ رَبًّا، وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا، وَبِمُحَمَّدٍ نَبِيًّا، إِلَّا كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يُرْضِيَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ.
خادم رسول ابوسلام (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جب کوئی مسلمان یا کوئی آدمی یا کوئی بندہ (یہ راوی کا شک ہے کہ کون سا کلمہ ارشاد فرمایا) صبح و شام یہ کہتا ہے : رضيت بالله ربا وبالإسلام دينا وبمحمد نبيا ہم اللہ کے رب ہونے، اسلام کے دین ہونے، اور محمد ﷺ کے نبی ہونے سے راضی و خوش ہیں) تو اللہ تعالیٰ پر اس کا یہ حق بن گیا کہ وہ قیامت کے دن اسے خوش کرے ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف : ١٢٠٥٠، ومصباح الزجاجة : ١٣٥٧) ، وقد أخرجہ : سنن ابی داود/الأدب ١١٠ (٥٠٧٢) ، مسند احمد (٤/٣٣٧، ٥/٣٦٧) (ضعیف) (سند میں سابق بن ناجیہ مجہول العین اور ابو سلام مجہول ہیں، اور سند میں اضطراب ہے، بعض روایات میں ابوسلام نے خادم النبی ﷺ سے روایت کی ہے، اور یہ مبہم ہے، ملاحظہ ہو : سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی : ٥٠٢٠ )