حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ الرَّبِيعِ الْيُحْمِدِيُّ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ كَثِيرٍ الشَّامِيِّ، عَنْ امْرَأَة مِنْهُمْ يُقَالُ لَهَا: فُسَيْلَةُ، قَالَتْ: سَمِعْتُ أَبِي، يَقُولُ، سَأَلْتُ النَّبِيَّ (ﷺ)، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَمِنَ الْعَصَبِيَّةِ أَنْ يُحِبَّ الرَّجُلُ قَوْمَهُ، قَالَ: لَا، وَلَكِنْ مِنَ الْعَصَبِيَّةِ أَنْ يُعِينَ الرَّجُلُ قَوْمَهُ عَلَى الظُّلْمِ.
فسیلہ نامی ایک عورت کہتی ہے کہ میں نے اپنے والد کو یہ کہتے سنا کہ میں نے نبی اکرم ﷺ سے پوچھا : اے اللہ کے رسول ! کیا اپنی قوم سے محبت رکھنا عصبیت ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : نہیں، بلکہ ظلم پر قوم کی مدد کرنا عصبیت ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف : ١١٧٥٧، ومصباح الزجاجة : ١٣٨٦) ، وقد أخرجہ : سنن ابی داود/الأدب ١٢١ (٥١١٩) مختصراً (ضعیف) (سند میں عباد بن کثیر اور فسیلہ ضعیف ہیں )