حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ زَيْنَبَ ابْنَةِ أُمِّ سَلَمَةَ، عَنْحَبِيبَةَ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ، أَنَّهَا قَالَتْ: اسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ) مِنْ نَوْمِهِ وَهُوَ مُحْمَرٌّ وَجْهُهُ، وَهُوَ يَقُولُ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَيْلٌ لِلْعَرَبِ مِنْ شَرٍّ قَدِ اقْتَرَبَ، فُتِحَ الْيَوْمَ مِنْ رَدْمِ يَأْجُوجَ، وَمَأْجُوجَوَعَقَدَ بِيَدَيْهِ عَشَرَةً، قَالَتْ زَيْنَبُ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَنَهْلِكُ وَفِينَا الصَّالِحُونَ، قَالَ: إِذَا كَثُرَ الْخَبَثُ.
ام المؤمنین زینب بنت جحش (رض) کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نیند سے بیدار ہوئے تو آپ کا مبارک چہرہ سرخ تھا، اور آپ فرما رہے تھے : لا إله إلا الله عرب کے لیے تباہی ہے اس فتنے سے جو قریب آگیا ہے، آج یاجوج و ماجوج کی دیوار میں اتنا سوراخ ہوگیا ہے، آپ ﷺ نے ہاتھ کی انگلیوں سے دس کی گرہ بنائی ١ ؎، زینب (رض) کہتی ہیں کہ میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کیا ہم ہلاک ہوجائیں گے ؟ حالانکہ ہم میں اچھے لوگ بھی موجود ہیں ! آپ ﷺ نے فرمایا : ہاں، جب معصیت (برائی) عام ہوجائے گی ٢ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/أحادیث الأنبیاء ٦ (٣٣٤٦) ، صحیح مسلم/الفتن ١ (٢٨٨٠) ، سنن الترمذی/الفتن ٢٣ (٢١٨٧) ، (تحفة الأشراف : ١٥٨٨٠) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٦/٤٢٨، ٤٣٩) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: دس کی گرہ یہ ہے کہ شہادت کی انگلی کے سرے کو انگوٹھے کے پہلے موڑپر رکھ کردائرہ بنایا جائے۔ ٢ ؎: تو نیک لوگوں کے ہوتے ہوئے بھی عذاب آئے گا، یاجوج اور ماجوج دو قومیں ہیں، جو قیامت کے قریب نکلیں گی۔