حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، وَسَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْالْحَسَنِ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ): إِذَا الْتَقَى الْمُسْلِمَانِ بِسَيْفَيْهِمَا فَالْقَاتِلُ وَالْمَقْتُولُ فِي النَّارِ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَذَا الْقَاتِلُ فَمَا بَالُ الْمَقْتُولِ، قَالَ: إِنَّهُ أَرَادَ قَتْلَ صَاحِبِهِ.
ابوموسیٰ اشعری (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب دو مسلمان تلوار لے کر باہم لڑ پڑیں، تو قاتل اور مقتول دونوں جہنمی ہوں گے ، لوگوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! یہ تو قاتل ہے (قتل کرنے کی وجہ سے جہنم میں جائے گا) مگر مقتول کا کیا گناہ ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : وہ بھی تو اپنے ساتھی کے قتل کا ارادہ رکھتا تھا ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/تحریم الدم ٢٥ (٤١٢٣) ، (تحفة الأشراف : ٨٩٨٤، ومصباح الزجاجة : ١٣٩٤) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/٤٠١، ٤٠٣، ٤١٠، ٤١٨) (صحیح )