حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا خَالِي يَعْلَى، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي الشَّعْثَاءِ، قَالَ: قِيلَ لِابْنِ عُمَرَ: إِنَّا نَدْخُلُ عَلَى أُمَرَائِنَا، فَنَقُولُ الْقَوْلَ، فَإِذَا خَرَجْنَا قُلْنَا غَيْرَهُ، قَالَ: كُنَّا نَعُدُّ ذَلِكَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ (ﷺ) النِّفَاقَ.
ابوالشعثاء کہتے ہیں کہ ابن عمر (رض) سے سوال کیا گیا کہ ہم امراء (حکمرانوں) کے پاس جاتے ہیں، تو وہاں کچھ اور باتیں کرتے ہیں اور جب وہاں سے نکلتے ہیں تو کچھ اور باتیں کہتے ہیں ؟ انہوں نے کہا : ہم رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں اس کو نفاق سمجھتے تھے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف : ٧٠٩٠، ومصباح الزجاجة : ١٤٠٠) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/ الأحکام ٢٧ (٧١٧٨) ، مسند احمد (٢/١٥) (صحیح )