حَدَّثَنَا رَاشِدُ بْنُ سَعِيدٍ الرَّمْلِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي غَالِبٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، قَالَ: عَرَضَ لِرَسُولِ اللَّهِ (ﷺ) رَجُلٌ عِنْدَ الْجَمْرَةِ الْأُولَى فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ الْجِهَادِ أَفْضَلُ؟ فَسَكَتَ عَنْهُ، فَلَمَّا رَأَى الْجَمْرَةَ الثَّانِيَةَ سَأَلَهُ فَسَكَتَ عَنْهُ، فَلَمَّا رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ وَضَعَ رِجْلَهُ فِي الْغَرْزِ لِيَرْكَبَ، قَالَ: أَيْنَ السَّائِلُ؟، قَالَ: أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: كَلِمَةُ حَقٍّ عِنْدَ ذِي سُلْطَانٍ جَائِرٍ.
ابوامامہ (رض) کہتے ہیں کہ جمرہ اولیٰ کے پاس رسول اللہ ﷺ کے سامنے ایک شخص نے آ کر عرض کیا : اللہ کے رسول ! کون سا جہاد سب سے بہتر ہے ؟ آپ ﷺ خاموش رہے، پھر جب آپ ﷺ نے دوسرے جمرہ کی رمی کی تو اس نے پھر آپ سے یہی سوال کیا، آپ ﷺ خاموش رہے، پھر جب آپ نے جمرہ عقبہ کی رمی کی، تو سوار ہونے کے لیے آپ نے اپنا پاؤں رکاب میں رکھا اور فرمایا : سوال کرنے والا کہاں ہے ؟ ، اس نے عرض کیا : میں حاضر ہوں، اللہ کے رسول ! آپ ﷺ نے فرمایا : (سب سے بہتر جہاد) ظالم حکمران کے سامنے حق و انصاف کی بات کہنی ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف : ٤٩٣٨، ومصباح الزجاجة : ١٤١١) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٥/٢٥١، ٢٥٦) (حسن صحیح) (یہ اسناد حسن ہے، لیکن شواہد کی وجہ سے یہ صحیح ہے )