حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ بْنُ أبِى شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ يَرْفَعُهُ، قَالَ: يَتَقَارَبُ الزَّمَانُ، وَيَنْقُصُ الْعِلْمُ، وَيُلْقَى الشُّحُّ، وَتَظْهَرُ الْفِتَنُ، وَيَكْثُرُ الْهَرْجُ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَا الْهَرْجُ؟ قَالَ: الْقَتْلُ.
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : زمانہ ایک دوسرے سے قریب ہوجائے گا، ١ ؎ علم گھٹ جائے گا، (لوگوں کے دلوں میں) بخیلی ڈال دی جائے گی، فتنے ظاہر ہوں گے، اور هرج زیادہ ہوگا ، لوگوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! هرج کیا چیز ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : قتل ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الفتن ٥ (٧٠٦١) ، صحیح مسلم/العلم ٧٢ (١٥٧) ، (تحفة الأشراف : ١٣٢٧٢) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/٢٣٣) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: یعنی عیش و عشرت یا بےبرکتی کی وجہ سے زمانہ جلدی گزر جائے گا، یا عمریں چھوٹی ہوں گی۔