حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: اضْطَجَعَ النَّبِيُّ (ﷺ) عَلَى حَصِيرٍ فَأَثَّرَ فِي جِلْدِهِ، فَقُلْتُ: بِأَبِي وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَوْ كُنْتَ آذَنْتَنَا فَفَرَشْنَا لَكَ عَلَيْهِ شَيْئًا يَقِيكَ مِنْهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ): مَا أَنَا وَالدُّنْيَا، إِنَّمَا أَنَا وَالدُّنْيَا كَرَاكِبٍ اسْتَظَلَّ تَحْتَ شَجَرَةٍ، ثُمَّ رَاحَ وَتَرَكَهَا.
عبداللہ بن مسعود (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ ایک چٹائی پر لیٹے تو آپ کے بدن مبارک پر اس کا نشان پڑگیا، میں نے کہا : میرے ماں باپ آپ پر قربان، اللہ کے رسول ! اگر آپ ہمیں حکم دیتے تو ہم آپ کے لیے اس پر کچھ بچھا دیتے، آپ اس تکلیف سے بچ جاتے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : میں تو دنیا میں ایسے ہی ہوں جیسے کوئی مسافر درخت کے سائے میں آرام کرے، پھر اس کو چھوڑ کر وہاں سے چل دے ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الزہد ٤٤ (٢٣٧٧) ، (تحفة الأشراف : ٩٤٤٣) ، وقد أخرجہ : (حم ١/٣٩١، ٤٤١) (صحیح )